7 اشعار

اک ستارے نے آنکھ ماری ہے

Ek sitare ne aankh maari hai

اک ستارے نے آنکھ ماری ہےدوسرے نے نظر اتاری ہے

بھیکھ لیتا ہے وہ بھی سورج سےچاند پہنچا ہوا بھکاری ہے

رات تارے شکار کرتی ہےدیکھیے آج کس کی باری ہے

آسماں خون میں نہایا ہےشام کے ہاتھ میں کٹاری ہے

جاننے والے جان جائیں گےرات تم نے کہاں گزاری ہے

یہ نہ مشتاقؔ کی نہ غالبؔ کیصاحبو یہ غزل ہماری ہے

یار علویؔ کہاں چلے لے کرکس حویلی کی یہ سواری ہے

— محمد علوی