9 اشعار

کہاں دفن ہے وہ

Kahan dafn hai woh

نقاہت کے مارے برا حال تھاپھر بھی بستر سے اٹھ کر

بڑے پیار سے اس نے مجھ کو بلایامرے سر پہ شفقت بھرا ہاتھ پھیرا

نہایت حلیمی سے مجھ کو کہاسنو میرے بچے

تمہیں آج میںاپنے پچپن برس دے رہا ہوں

اگر ہو سکے توکبھی ان کی قیمت چکانا

مری قبر پر تھوک جانابس اتنا کہا اور وہ مر گیا

اور میںاس کے برسوں کی قیمت کو

منہ میں چھپائےاسے ڈھونڈتا ہوں

کہاں دفن ہے وہ

— محمد علوی