5 اشعار

میں نوحہ گر ہوں بھٹکتے ہوئے قبیلوں کا

Main nauha-gar hoon bhatakte hue qabeelon ka

میں نوحہ گر ہوں بھٹکتے ہوئے قبیلوں کااجڑتے شہر کی گرتی ہوئی فصیلوں کا

نکل کے جاؤں کہاں کربلا کے میداں سےافق سے تا بہ افق سلسلہ ہے ٹیلوں کا

مرا نہیں ہوں مگر رائیگاں نہ جائے گاگدھوں کا نیچے اترنا طواف چیلوں کا

بہت ہی دور تھے پر دل کے پاس رہتے تھےقریب ہوتے ہوئے فاصلہ ہے میلوں کا

اٹھارہ سال سے کرتے ہیں شاعری علویؔیہ جانتے ہوئے پیشہ ہے یہ ذلیلوں کا

— محمد علوی