7 اشعار

نیند راتوں کی اڑا دیتے ہیں

Neend raaton ki uda dete hain

نیند راتوں کی اڑا دیتے ہیںہم ستاروں کو دعا دیتے ہیں

روز اچھے نہیں لگتے آنسوخاص موقعوں پہ مزا دیتے ہیں

اب کے ہم جان لڑا بیٹھیں گےدیکھیں اب کون سزا دیتے ہیں

ہائے وہ لوگ جو دیکھے بھی نہیںیاد آئیں تو رلا دیتے ہیں

دی ہے خیرات اسی در سے کبھیاب اسی در پہ صدا دیتے ہیں

آگ اپنے ہی لگا سکتے ہیںغیر تو صرف ہوا دیتے ہیں

کتنے چالاک ہیں خوباں علویؔہم کو الزام وفا دیتے ہیں

— محمد علوی