5 اشعار

واپسی

Wapsi

سمندر سامنے پھیلا ہوا ہےچمکتی ریت قدموں میں بچھی ہے

پرندے تیرتے ہیں آسماں پرافق میں ایک کشتی ڈوبتی ہے

کنارہ چھوڑ کے جاتی ہیں موجیںنہا کر دھوپ اجلی ہو گئی ہے

گھٹا جاتا ہے دم مرنے سے پہلےہوا میں مچھلیوں کی بو بسی ہے

چلو اب آج کا دن اور جی لیںکہ مرنے کو ابھی کل بھی پڑی ہے

— محمد علوی