6 اشعار

بیٹھے ہیں چین سے کہیں جانا تو ہے نہیں

Baithe hain chain se kahin jaana to hai nahin

بیٹھے ہیں چین سے کہیں جانا تو ہے نہیں

«بیٹھے ہیں چین سے کہیں جانا تو ہے نہیں» رحمان فارس کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «نہ کوئی حرف ملامت نہ کوئی کلمۂ خیر شبنم شکیل» میں 16 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

بیٹھے ہیں چین سے کہیں جانا تو ہے نہیںہم بے گھروں کا کوئی ٹھکانا تو ہے نہیں

تم بھی ہو بیتے وقت کے مانند ہو بہوتم نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں

عہد وفا سے کس لیے خائف ہو میری جانکر لو کہ تم نے عہد نبھانا تو ہے نہیں

وہ جو ہمیں عزیز ہے کیسا ہے کون ہےکیوں پوچھتے ہو ہم نے بتانا تو ہے نہیں

دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جالہم نے ترے فریب میں آنا تو ہے نہیں

وہ عشق تو کرے گا مگر دیکھ بھال کےفارسؔ وہ تیرے جیسا دوانہ تو ہے نہیں

— رحمان فارس

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں