8 اشعار

جب خزاں آئے تو پتے نہ ثمر بچتا ہے

Jab khizāñ āye to patte na samar bachṭā hai

جب خزاں آئے تو پتے نہ ثمر بچتا ہے

«جب خزاں آئے تو پتے نہ ثمر بچتا ہے» رحمان فارس کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض» میں 15 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

جب خزاں آئے تو پتے نہ ثمر بچتا ہےخالی جھولی لئے ویران شجر بچتا ہے

نکتہ چیں شوق سے دن رات مرے عیب نکالکیونکہ جب عیب نکل جائیں ہنر بچتا ہے

سارے ڈر بس اسی ڈر سے ہیں کہ کھو جائے نہ یاریار کھو جائے تو پھر کون سا ڈر بچتا ہے

روز پتھراؤ بہت کرتے ہیں دنیا والےروز مر مر کے مرا خواب نگر بچتا ہے

غم وہ رستہ ہے کہ شب بھر اسے طے کرنے کے بادصبح دم دیکھیں تو اتنا ہی سفر بچتا ہے

بس یہی سوچ کے آیا ہوں تری چوکھٹ پردر بدر ہونے کے بعد اک یہی در بچتا ہے

اب مرے عیب زدہ شہر کے شر سے صاحبشاذ و نادر ہی کوئی اہل ہنر بچتا ہے

عشق وہ علم ریاضی ہے کہ جس میں فارسدو سے جب ایک نکالیں تو صفر بچتا ہے

— رحمان فارس

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں