13 اشعار

پہنچ سے دُور چمکتا سراب یعنی تُو

پہنچ سے دُور چمکتا سراب یعنی تُو

پہنچ سے دُور چمکتا سراب یعنی تُو

«پہنچ سے دُور چمکتا سراب یعنی تُو» رحمان فارس کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے (مراز غالب)» میں 2 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 51 سیکنڈ ہے۔

پہنچ سے دُور چمکتا سراب یعنی تُومجھے دکھایا گیا ایک خواب یعنی تُو

مَیں جانتا ھوں ببُول اور گلاب کے معنیببُول یعنی زمانہ ، گلاب یعنی تُو

جمالیات کو پڑھنے کا شوق تھا ، سو مجھےعطا ھوا ھے مکمل نصاب یعنی تُو

کہاں یہ ذرّہء تاریک بخت یعنی مَیںکہاں وہ نُور بھرا ماھتاب یعنی تُو

بدل گئی ھے بہت مملکت مرے دِل کیکہ آگیا ھے یہاں انقلاب یعنی تُو

ھر اِک غزل کو سمجھنے کا وقت ھے نہ دماغمجھے بہت ھے فقط انتخاب یعنی تُو

کبھی تو میرے اندھیروں کو روشنی دے گاگریز کرتا ھوا ماھتاب یعنی تُو

اِدھر ھے کوہ کنِ دشتِ عشق یعنی مَیںاُدھر ھے حُسنِ نزاکت مآب یعنی تُو

اُجاڑ گُلشنِ دل کو بڑی دعاوں کے بعدھوا نصیب گُلِ باریاب یعنی تُو

بہت طویل سہی داستانِ دل ، لیکنبس ایک شخص ھے لُبِّ لباب یعنی تُو

کبھی کبھی نظر آتا ھے دشتِ ھجراں میںجنُوں کی پیاس بڑھاتا سراب یعنی تُو

چکھے بغیر ھی جس کا نشہ مُسلسل ھےمجھے بہم ھے اِک ایسی شراب یعنی تُو

کوئی سوال ھے جس کو جواب مِلتا نہیںسوال یعنی کہ فارس ، جواب یعنی تُو

— رحمان فارس

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں