کن کے خالق کبھی ماحول جداگانہ بنے
کن کے خالق کبھی ماحول جداگانہ بنے
دشت میں شہر بسیں ٰ شہر میں ویرانہ بنے
اشک تعمیر میں شامل نہیں ورنہ معمار
ان کو ترتیب میں لائے تو عزاء خانہ بنے
مہنگی اشیاء کی طرف آنکھ اٹھاتے نہیں سب
ہر کوئ دیکھے اسے اتنا بھی سستا نہ بنے
منتٍ کوزہ گراں اب نہیں ہوتی مجھ سے
جب ارادہ ہی نہیں اس کا تو اچھا؛نہ بنے
میں ترے ساتھ رہوں اور نہ لگاؤں تجھے ہاتھ
یعنی مٹی پہ چلوں نقش_ کف_پا نہ بنے
میں نے کچھ داغ ترے ساتھ روانہ کئے ہیں
تاکہ تو میرا نہیں ہے تو کسی کا نہ بنے
ہاتھ خوش ہیں کہ بنائیں گے ترے نقش و نگار
آگے تصویر کی مرضی ہے بنے یا نہ بنے
ایسا ممکن ہی نہیں صاف ورق پر راکب
تو مری پیاس لکھے ساتھ میں دریا نہ بنے
راکب مختار