دارالشفا سمجھ کے در یار پہ گئے
دارالشفا سمجھ کے در یار پہ گئے
ایسے شفا ہوئی کہ وہیں بیٹھے مر گئے
اطراف میں تو اپنے تھے ، دشمن تھا سامنے
کیوں تیر میرے جسم میں ترچھے اتر گئے
وہ کچے گھر میں آج بھی رہتی ہے مطمئن
شہزادے جس کی چاہ میں جاں سے گزر گئے
کم ظرف لوگ آئے تھے جاگیرِ قیس میں
واپس پلٹ کے دشت کی توہین کر گئے
اتنا لُٹے ہیں مہر و مروت کی آڑ میں
ہم سے کسی نے ہاتھ ملایا تو ڈر گئے
وہ ہاتھ میرے ہاتھ سے چھوٹا اور اس کے بعد
جو ہاتھ اس کے ہاتھ لگے ہاتھ کر گئے
راکب مختار