ہوۓ تھے بین فضا میں نمی بکھر گئ تھی
ہوۓ تھے بین فضا میں نمی بکھر گئ تھی
جب ایک کونج کسی ڈار سے بچھڑ گئ تھی
کسی نے بیٹی سمجھ کر جو سر پہ ہاتھ رکھا
تو نوجوان بھکارن خوشی سے مر گئ تھی
بس ایک پھول کھلا تھا عرب کے صحرا میں
فضاۓ دہر کئ خوشبوؤں سے بھر گئ تھی
میں اپنے رنگ میں ثروت کو گنگنا رہا تھا
اور عین وقت پہ اک ریل بھی گزر گئ تھی
غم_معاش نے تقسیم کر دیا شاعر
تمہاری شکل مرے ذہن سے اتر گئ تھی
میں اس کی قبر پہ کچھ اشک چھوڑ آیا ہوں
جو خاص لڑکی محبت کو عام کر گئ تھی
راکب مختار