چشم نم جراتِ انکار سے ڈر جاتا ہے
چشم نم جراتِ انکار سے ڈر جاتا ہے
صاحبِ تخت عزادار سے ڈر جاتا ہے
تُف ہے اس دیدہِ دلیری پہ کہ برسرِ دربار
سُورما شام کا بیمار ع سے ڈر جاتا ہے
چودہ صدیوں سے اثر کھو نہیں پائیں کڑياں
ظلم زنجیر کی جھنکار سے ڈر جاتا ہے
تیغ اٹھانے کا تکلف بھی کروں تو کیوں کر
وہ مری حیدری ع للکار سے ڈر جاتا ہے.
راکب مختار