رزق عشق فراہم باہم کیا جائے
رزق عشق فراہم باہم کیا جائے
ہماری آنکھ پہ رحم و کرم کیا جائے
وہ اتنا ڈھیر حسین تھا کہ ہم پہ واجب ہے
تمام عمر بچھڑنے کا غم کیا جاۓ
زمیں کو عرشِ معلّی تلک رسائی مِلے
فلک کو کھینچ کے مِٹّی میں ضم کِیا جائے !!
وہ خواب میں بھی مرے ساتھ چل کے کہتا ہے
سفر ،سفر ہے بھلے دو قدم کیا جاے۔
مریدنی کے دوپٹے کی سمت لپکا تھا
جناب پیر کا بازو قلم کیا جائے
راکب مختار