خوف خسارہ مجھ کو نہ کل تھا نہ آج ہے
خوف خسارہ مجھ کو نہ کل تھا نہ آج ہے
بس دل پہ ایک راجکماری کا راج ہے
اے دوست احتیاط برت جتنا ہو سکے
ویسے منافقت کا مرض لا علاج ہے
لے ختم ہو گیا ہے ترا شکوہء گھٹن
اب آستیں پہ کوئی بٹن ہے نہ کاج ہے
وہ بادشاہ مولا علی کا غلام تھا
خیرات کی جگہ مرے کاسے میں تاج ہے
ہم دختر عدو کو بھی بیٹی سمجھتے ہیں
یہ بات صرف بات نہیں ہے رواج ہے
راکب مختار