دھڑکن تھے، دعا تھے، میرے ہونے کا یقیں تھے
دھڑکن تھے، دعا تھے، میرے ہونے کا یقیں تھے
خوشبو کے محافظ تھے محبت کے امیں تھے
دُکھ یہ ہے مرے یُوسف و یعقوب کے خالِق
وہ لوگ بھی بِچھڑے، جو بِچھڑنے کے نہیں تھے
اے بادِ سِتم خیز ، تیری خیر کہ تُو نے
پنچھی وہ اُڑائے ، جو اُڑنے کے نہیں تھے
تم سے تو کوئی شکوہ نہیں چارہ گری کا
چھوڑو، یہ مرے زخم ہی بَھرنے کے نہیں تھے
اے زیست اِدھر دیکھ ، کہ ہم نے تری خاطِر
وہ دِن بھی گزارے جو گزرنے کے نہیں تھے
کل رات تری یاد نے طوفاں وہ اُٹھایا
آنسُو تھے کہ پلکوں پہ ٹھہرنے کے نہیں تھے
اے گردشِ ایام ہمیں رَنج بہت ہے
کچھ خواب تھے ایسے کہ بِکھرنے کے نہیں تھے
راکب مختار