ریکارڈ شدہ ایکس سپیس 1 مئی 2026

جو بگڑ گیاوہ نصیب ہوں جو اجڑگیا وہ دیارہوں مضطر خیرآبادی

مہمان شاعر: مضطر خیرآبادی

14
سپیکرز
190
سامعین

سپیکرز

کسی سپیکر کو منتخب کریں — ان کا پیش کردہ کلام نیچے

مضطر خیرآبادی — مہمان شاعر

مضطرؔ خیرآبادی اردو ادب کے اُن ممتاز کلاسیکی شعرا میں شمار ہوتے ہیں جن کی شاعری میں مذہبی شعور، روحانی گہرائی اور خالص مشرقی تہذیب کا عکس نمایاں ہے۔ ان کا اصل نام سید محمد افتخار حسین رضوی تھا اور وہ تقریباً 1865ء میں خیرآباد، ضلع سیتا پور (اودھ) میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک نہایت علمی اور انقلابی خانوادے سے تھا؛ ان کے دادا مولانا فضلِ حق خیرآبادی برصغیر کے عظیم عالم، فلسفی اور تحریکِ آزادی 1857ء کے نمایاں رہنما تھے۔ اس علمی و فکری وراثت نے مضطرؔ کی شخصیت اور فن کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔مضطرؔ خیرآبادی نے کم عمری ہی میں شاعری کا آغاز کیا اور غزل، نظم، نعت اور مذہبی شاعری میں اپنی الگ پہچان قائم کی۔ ان کے کلام میں عشقِ حقیقی، اخلاقی اقدار، روحانیت اور انسانی جذبات کی پاکیزہ ترجمانی ملتی ہے۔ ان کے شعری مجموعے نذرِ خدا اور میلادِ مصطفیٰ ﷺ ان کے مذہبی اور فکری رجحان کی واضح مثال ہیں۔ انہوں نے ادبی رسالہ کرشمۂ دلبر بھی جاری کیا، جو اس دور میں ادبی مکالمے اور تنقیدی شعور کے فروغ کا ذر...

مکمل تعارف اور کلام ‹