نہ بلوایا نہ آئے روز وعدہ کر کے دن کاٹے
کلام: مضطر خیرآبادی
نہ بلوایا نہ آئے روز وعدہ کر کے دن کاٹےبڑے وہ ہو کہ تم نے اچھا اچھا کر کے دن کاٹے
اکیلے کیا تمہیں نے سختیاں جھیلیں جدائی کینہیں ہم نے بھی پتھر کا کلیجا کر کے دن کاٹے
جو بگڑ گیاوہ نصیب ہوں جو اجڑگیا وہ دیارہوں مضطر خیرآبادی
مہمان شاعر: مضطر خیرآبادی
نہ بلوایا نہ آئے روز وعدہ کر کے دن کاٹےبڑے وہ ہو کہ تم نے اچھا اچھا کر کے دن کاٹے
اکیلے کیا تمہیں نے سختیاں جھیلیں جدائی کینہیں ہم نے بھی پتھر کا کلیجا کر کے دن کاٹے