نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
کلام: مضطر خیرآبادی
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوںکسی کام میں جو نہ آ سکے میں وہ ایک مشت غبار ہوں
نہ دواۓ درد جگر ہوں میں نہ کسی کی میٹھی نظر ہوں میںنہ ادھر ہوں میں نہ ادھر ہوں میں نہ شکیب ہوں نہ قرار ہوں