علاج درد دل تم سے مسیحا ہو نہیں سکتا
کلام: مضطر خیرآبادی
علاج درد دل تم سے مسیحا ہو نہیں سکتاتم اچھا کر نہیں سکتے میں اچھا ہو نہیں سکتا
عدو کو چھوڑ دو پھر جان بھی مانگو تو حاضر ہےتم ایسا کر نہیں سکتے تو ایسا ہو نہیں سکتا
جو بگڑ گیاوہ نصیب ہوں جو اجڑگیا وہ دیارہوں مضطر خیرآبادی
مہمان شاعر: مضطر خیرآبادی
علاج درد دل تم سے مسیحا ہو نہیں سکتاتم اچھا کر نہیں سکتے میں اچھا ہو نہیں سکتا
عدو کو چھوڑ دو پھر جان بھی مانگو تو حاضر ہےتم ایسا کر نہیں سکتے تو ایسا ہو نہیں سکتا