پھیلا ہوا ہے باغ میں ہر سمت نور صبح
کلام: پروین ام مشتاق
پھیلا ہوا ہے باغ میں ہر سمت نور صبحبلبل کے چہچہوں سے ہے ظاہر سرور صبح
بیٹھے ہو تم جو چہرہ سے الٹے نقاب کوپھیلا ہوا ہے چار طرف شب کو نور صبح
واعظ شراب و حور کی الفت میں غرق ہے پروین ام مشتاق
مہمان شاعر: پروین ام مشتاق
پھیلا ہوا ہے باغ میں ہر سمت نور صبحبلبل کے چہچہوں سے ہے ظاہر سرور صبح
بیٹھے ہو تم جو چہرہ سے الٹے نقاب کوپھیلا ہوا ہے چار طرف شب کو نور صبح