5 اشعار

پھیلا ہوا ہے باغ میں ہر سمت نور صبح

Phaila hua hai baagh mein har simt noor-e-subh

پھیلا ہوا ہے باغ میں ہر سمت نور صبح

«پھیلا ہوا ہے باغ میں ہر سمت نور صبح» پروین ام مشتاق کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «واعظ شراب و حور کی الفت میں غرق ہے پروین ام مشتاق» میں 20 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

پھیلا ہوا ہے باغ میں ہر سمت نور صبحبلبل کے چہچہوں سے ہے ظاہر سرور صبح

بیٹھے ہو تم جو چہرہ سے الٹے نقاب کوپھیلا ہوا ہے چار طرف شب کو نور صبح

بد قسمتوں کو گر ہو میسر شب وصالسورج غروب ہوتے ہی ظاہر ہو نور صبح

پو پھٹتے ہی ریاض جہاں خلد بن گیاغلمان مہر ساتھ لئے آئی حور صبح

مرغ سحر عدو نہ موذن کی کچھ خطاپرویںؔ شب وصال میں سب ہے فتور صبح

— پروین ام مشتاق

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں