مقرر · کو ہوسٹ

نگاہ بسمل

@HashirRao17

11
پیش کردہ کلام
29
محفلوں میں شرکت
نگاہ بسمل کی آواز میں

ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

کلام: حبیب جالب · محفل: دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب) · 2025-11-26

«ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے نگاہ بسمل نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب)» میں 26 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 20 سیکنڈ ہے۔

ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھناپتھر کو گہر دیوار کو در کرگس کو ہما کیا لکھنا

اک حشر بپا ہے گھر میں دم گھٹتا ہے گنبد بے در میںاک شخص کے ہاتھوں مدت سے رسوا ہے وطن دنیا بھر میں

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 الٹے وہ شکوے کرتے ہیں اور کس ادا کے ساتھ Ulte woh shikwe karte hain aur kis ada ke saath مومن خان مومن آواز میں دستیاب
  2. 02 مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے Majnoon ne shahr chhoda to sehra bhi chhod de علامہ اقبال آواز میں دستیاب
  3. 03 گھستے گھستے پاؤں میں زنجیر آدھی رہ گئی گھستے گھستے پاؤں میں زنجیر آدھی رہ گئی مرزا غالب آواز میں دستیاب
  4. 04 رنگاں وچوں رنگ عشق دا رنگ عشق دا سوہا Rangan wichon rang ishq da rang ishq da sooha پنجابی شعرا آواز میں دستیاب
  5. 05 یاداں دا گنجل نی مائے Yaadaan da ganjal ni maaye نگاہ بسمل آواز میں دستیاب
  6. 06 ایک گم سم فضا کے سواکچھ نہ تھا میری چپ چاپ حیرانیوں کے لیے Ek gum sum fiza ke siwa kuch na tha meri chup chaap hairaniyon ke liye قتیل شفائی آواز میں دستیاب
  7. 08 بلاتے کیوں ہو عاجزؔ کو بلانا کیا مزا دے ہے Bulāte kyon ho 'Ajiz ko bulana kya maza de hai کلیم عاجز آواز میں دستیاب
  8. 09 زمیں پھر درد کا یہ سائباں کوئی نہیں دے گا Zameen phir dard ka yeh saiban koi nahin dega ظفرگورکھپوری آواز میں دستیاب