مقرر · کو ہوسٹ

نگاہ بسمل

@HashirRao17

11
پیش کردہ کلام
29
محفلوں میں شرکت
نگاہ بسمل کی آواز میں

ایک گم سم فضا کے سواکچھ نہ تھا میری چپ چاپ حیرانیوں کے لیے

کلام: قتیل شفائی · محفل: اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی) · 2025-11-28

«ایک گم سم فضا کے سواکچھ نہ تھا میری چپ چاپ حیرانیوں کے لیے» قتیل شفائی کا کلام ہے، جسے نگاہ بسمل نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)» میں 28 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 25 سیکنڈ ہے۔

ایک گم سم فضا کے سواکچھ نہ تھا میری چپ چاپ حیرانیوں کے لیےاب کے ساون میں بھی میں ترستا رہا گنگناتے ہوئے پانیوں کے لیے

جب بھی نیکی بدی کا پڑا رَن کوئی جو بھی ناصح تھا وہ پیٹھ دکھلا گیاسہہ گئے ہم ہی محرومیوں کے ستم رہ گئے ہم ہی قربانیوں کے لیے

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 الٹے وہ شکوے کرتے ہیں اور کس ادا کے ساتھ Ulte woh shikwe karte hain aur kis ada ke saath مومن خان مومن آواز میں دستیاب
  2. 02 مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے Majnoon ne shahr chhoda to sehra bhi chhod de علامہ اقبال آواز میں دستیاب
  3. 03 گھستے گھستے پاؤں میں زنجیر آدھی رہ گئی گھستے گھستے پاؤں میں زنجیر آدھی رہ گئی مرزا غالب آواز میں دستیاب
  4. 04 رنگاں وچوں رنگ عشق دا رنگ عشق دا سوہا Rangan wichon rang ishq da rang ishq da sooha پنجابی شعرا آواز میں دستیاب
  5. 05 یاداں دا گنجل نی مائے Yaadaan da ganjal ni maaye نگاہ بسمل آواز میں دستیاب
  6. 07 ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا Zulmat Ko Ziya Sarsar Ko Saba Bande Ko Khuda Kya Likhna حبیب جالب آواز میں دستیاب
  7. 08 بلاتے کیوں ہو عاجزؔ کو بلانا کیا مزا دے ہے Bulāte kyon ho 'Ajiz ko bulana kya maza de hai کلیم عاجز آواز میں دستیاب
  8. 09 زمیں پھر درد کا یہ سائباں کوئی نہیں دے گا Zameen phir dard ka yeh saiban koi nahin dega ظفرگورکھپوری آواز میں دستیاب