مقرر · کو ہوسٹ

نگاہ بسمل

@HashirRao17

11
پیش کردہ کلام
29
محفلوں میں شرکت
نگاہ بسمل کی آواز میں

زمیں پھر درد کا یہ سائباں کوئی نہیں دے گا

کلام: ظفرگورکھپوری · محفل: ضمیروقت میں پیوست ہوں میں پھانس کی صورت (ظفر گورکھپوری) · 2025-11-21

«زمیں پھر درد کا یہ سائباں کوئی نہیں دے گا» ظفرگورکھپوری کا کلام ہے، جسے نگاہ بسمل نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ضمیروقت میں پیوست ہوں میں پھانس کی صورت (ظفر گورکھپوری)» میں 21 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 13 سیکنڈ ہے۔

زمیں پھر درد کا یہ سائباں کوئی نہیں دے گاتجھے ایسا کشادہ آسماں کوئی نہیں دے گا

ابھی زندہ ہیں ہم پر ختم کر لے امتحاں سارےہمارے بعد کوئی امتحاں کوئی نہیں دے گا

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 الٹے وہ شکوے کرتے ہیں اور کس ادا کے ساتھ Ulte woh shikwe karte hain aur kis ada ke saath مومن خان مومن آواز میں دستیاب
  2. 02 مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے Majnoon ne shahr chhoda to sehra bhi chhod de علامہ اقبال آواز میں دستیاب
  3. 03 گھستے گھستے پاؤں میں زنجیر آدھی رہ گئی گھستے گھستے پاؤں میں زنجیر آدھی رہ گئی مرزا غالب آواز میں دستیاب
  4. 04 رنگاں وچوں رنگ عشق دا رنگ عشق دا سوہا Rangan wichon rang ishq da rang ishq da sooha پنجابی شعرا آواز میں دستیاب
  5. 05 یاداں دا گنجل نی مائے Yaadaan da ganjal ni maaye نگاہ بسمل آواز میں دستیاب
  6. 06 ایک گم سم فضا کے سواکچھ نہ تھا میری چپ چاپ حیرانیوں کے لیے Ek gum sum fiza ke siwa kuch na tha meri chup chaap hairaniyon ke liye قتیل شفائی آواز میں دستیاب
  7. 07 ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا Zulmat Ko Ziya Sarsar Ko Saba Bande Ko Khuda Kya Likhna حبیب جالب آواز میں دستیاب
  8. 08 بلاتے کیوں ہو عاجزؔ کو بلانا کیا مزا دے ہے Bulāte kyon ho 'Ajiz ko bulana kya maza de hai کلیم عاجز آواز میں دستیاب