مقرر

پرشانت

@Kaku1701

13
پیش کردہ کلام
14
محفلوں میں شرکت
پرشانت کی آواز میں

اگر تم دل ہمارا لے کے پچھتائے تو رہنے دو

کلام: مضطر خیرآبادی · محفل: جو بگڑ گیاوہ نصیب ہوں جو اجڑگیا وہ دیارہوں مضطر خیرآبادی · 2026-05-01

«اگر تم دل ہمارا لے کے پچھتائے تو رہنے دو» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے پرشانت نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو بگڑ گیاوہ نصیب ہوں جو اجڑگیا وہ دیارہوں مضطر خیرآبادی» میں 1 مئی 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

اگر تم دل ہمارا لے کے پچھتائے تو رہنے دونہ کام آئے تو واپس دو جو کام آئے تو رہنے دو

مرا رہنا تمہارے در پہ لوگوں کو کھٹکتا ہےاگر کہہ دو تو اٹھ جاؤں جو رحم آئے تو رہنے دو

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 بے گھری ہے کہاں ٹھکانا ہے Be-gharī hai kahāñ ṭhikānā hai تنویر دانش
  2. 03 حسین ایسا تھا وہ کہ پڑتے نظر گیا دل Haseen aisa tha woh ke padte nazar gaya dil اسماعیل راز
  3. 04 پھر ملے ہم ان سے پھر یاری بڑھی Phir mile hum un se phir yaari barhi مبارک عظیم آبادی
  4. 05 دل کو غم سے حذر نہ ہو جائے Dil ko gham se hazar na ho jaaye ناشاد کانپوری
  5. 06 تم اپنے کو خود اپنے ہی جلووں میں چھپا کے Tum apne ko khud apne hi jalwon mein chhupa ke کامل شطاری آواز میں دستیاب
  6. 07 دل کس سے لگاؤں کہیں دلبر نہیں ملتا Dil kis se lagaaun kahin dilbar nahin milta رند لکھنوی آواز میں دستیاب
  7. 08 سانوں نہر والے پل تے بلا کے Sanu nehar wale pul te bula ke پنجابی شعرا
  8. 09 محبت میں نہ جانے کیوں ہمیں فرصت زیادہ ہے Mohabbat mein na jaane kyon hamein fursat zyada hai شاہین عباس آواز میں دستیاب