بے گھری ہے کہاں ٹھکانا ہے
کلام: تنویر دانش
بے گھری ہے کہاں ٹھکانا ہےکیا خبر کتنی دور جانا ہے
آپ یہ بوجھ کہہ رہے ہیں جسےہم نے اک عمر تک اٹھانا ہے
ایک شام جناب تنویر دانش صاحب کے نام
مہمان شاعر: تنویر دانش
بے گھری ہے کہاں ٹھکانا ہےکیا خبر کتنی دور جانا ہے
آپ یہ بوجھ کہہ رہے ہیں جسےہم نے اک عمر تک اٹھانا ہے