پرشانت کی آواز میں
دل کس سے لگاؤں کہیں دلبر نہیں ملتا
کلام: رند لکھنوی · محفل: لے تو جائے گا خط شوق مگر رشک یہ ہے رند لکھنوی · 2026-04-26
«دل کس سے لگاؤں کہیں دلبر نہیں ملتا» رند لکھنوی کا کلام ہے، جسے پرشانت نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «لے تو جائے گا خط شوق مگر رشک یہ ہے رند لکھنوی» میں 26 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔
دل کس سے لگاؤں کہیں دلبر نہیں ملتاکیا ظلم سہوں کوئی ستم گر نہیں ملتا
خط لے کے گیا جو وہ کبوتر نہیں ملتاکیا ذکر کبوتر کا ہے اک پر نہیں ملتا