18 اشعار

دل کس سے لگاؤں کہیں دلبر نہیں ملتا

Dil kis se lagaaun kahin dilbar nahin milta

دل کس سے لگاؤں کہیں دلبر نہیں ملتا

«دل کس سے لگاؤں کہیں دلبر نہیں ملتا» رند لکھنوی کا کلام ہے، جسے پرشانت نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «لے تو جائے گا خط شوق مگر رشک یہ ہے رند لکھنوی» میں 26 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

دل کس سے لگاؤں کہیں دلبر نہیں ملتاکیا ظلم سہوں کوئی ستم گر نہیں ملتا

خط لے کے گیا جو وہ کبوتر نہیں ملتاکیا ذکر کبوتر کا ہے اک پر نہیں ملتا

زلفوں کی طرح عمر بسر ہو گئی اپنیہم خانہ بدوشوں کو کہیں گھر نہیں ملتا

کیا خاک مداوا کریں شوریدہ سری کاسر پھوڑنے کو ڈھونڈھیں تو پتھر نہیں ملتا

گنجلک نہیں مٹتی جو طبیعت میں پڑی ہےدل تجھ سے کسی طور سے دلبر نہیں ملتا

کیا کیجئے تعریف بنا گوش کی اس کےآویزے کو جس کان کے گوہر نہیں ملتا

گم جب سے ہوا ہوں میں تری راہ طلب میںجب ڈھونڈھتا ہوں آپ کو اکثر نہیں ملتا

کچھ طالب زر بت ہی نہیں غور سے دیکھوحق یوں ہے کہ اللہ بھی بے زر نہیں ملتا

صورت نہیں ملتی تری صورت سے کسی کیگہنے سے کسی کے ترا زیور نہیں ملتا

آرائشیں موقوف ہوئیں کس لئے اے جانگوہر نہیں ملتا ہے کہ زر گر نہیں ملتا

ابرو کی محبت میں کسے زیست ہے منظورمر جاؤں گلا کاٹ کے خنجر نہیں ملتا

رندان مے آشام نہیں جام کے پابندہم اوک سے پیتے ہیں جو ساغر نہیں ملتا

وحشت میں نکل جاؤں میں سرحد سے زمیں کیاس گنبد گرداں کا ولے در نہیں ملتا

او برق تجلی ترے کشتے کی لحد پرکیا لوح بنے طور کا پتھر نہیں ملتا

حاضر ہوں مجھے بستۂ فتراک فرس کرگر صید کوئی ترک ستم گر نہیں ملتا

عاشق سے نہ کھینچ آپ کو اے بادشہ حسندرویش سے کیا جھک کے تونگر نہیں ملتا

جو زخم کو سینے کے سیے ٹانکے جگر کوایسا کوئی استاد رفوگر نہیں ملتا

اے رندؔ لبالب ہو جو عرفان کی مے سےساغر وہ بجز ساقیٔ کوثر نہیں ملتا

— رند لکھنوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں