ندیم بخاری کی آواز میں
کچھ تو تنہائی کی راتوں میں سہارا ہوتا
کلام: اختر شیرانی · محفل: بہار آ کے چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی اختر شیرانی · 2026-02-11
«کچھ تو تنہائی کی راتوں میں سہارا ہوتا» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے ندیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بہار آ کے چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی اختر شیرانی» میں 11 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔
کچھ تو تنہائی کی راتوں میں سہارا ہوتاتم نہ ہوتے نہ سہی ذکر تمہارا ہوتا
ترک دنیا کا یہ دعویٰ ہے فضول اے زاہدبار ہستی تو ذرا سر سے اتارا ہوتا