ندیم بخاری کی آواز میں
ٹوٹنے پر کوئی آئے تو پھر ایسا ٹوٹے
کلام: جواد شیخ · محفل: جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ · 2026-02-12
«ٹوٹنے پر کوئی آئے تو پھر ایسا ٹوٹے» جواد شیخ کا کلام ہے، جسے ندیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ» میں 12 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 11 سیکنڈ ہے۔
ٹوٹنے پر کوئی آئے تو پھر ایسا ٹوٹےکہ جسے دیکھ کے ہر دیکھنے والا ٹوٹے
تو اسے کس کے بھروسے پہ نہیں کات رہی؟؟چرخ کو دیکھنے والی!! ترا چرخہ ٹوٹے