9 اشعار

کچھ تو تنہائی کی راتوں میں سہارا ہوتا

Kuch to tanhai ki raaton mein sahara hota

کچھ تو تنہائی کی راتوں میں سہارا ہوتا

«کچھ تو تنہائی کی راتوں میں سہارا ہوتا» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے ندیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بہار آ کے چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی اختر شیرانی» میں 11 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔

کچھ تو تنہائی کی راتوں میں سہارا ہوتاتم نہ ہوتے نہ سہی ذکر تمہارا ہوتا

ترک دنیا کا یہ دعویٰ ہے فضول اے زاہدبار ہستی تو ذرا سر سے اتارا ہوتا

وہ اگر آ نہ سکے موت ہی آئی ہوتیہجر میں کوئی تو غمخوار ہمارا ہوتا

زندگی کتنی مسرت سے گزرتی یا ربعیش کی طرح اگر غم بھی گوارا ہوتا

عظمت گریہ کو کوتاہ نظر کیا سمجھیںاشک اگر اشک نہ ہوتا تو ستارا ہوتا

لب زاہد پہ ہے افسانۂ حور جنتکاش اس وقت مرا انجمن آرا ہوتا

غم الفت جو نہ ملتا غم ہستی ملتاکسی صورت تو زمانے میں گزارا ہوتا

کس کو فرصت تھی زمانے کے ستم سہنے کیگر نہ اس شوخ کی آنکھوں کا اشارا ہوتا

کوئی ہمدرد زمانے میں نہ پایا اخترؔدل کو حسرت ہی رہی کوئی ہمارا ہوتا

— اختر شیرانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں