مسرور بھی ہوں خوش بھی ہوں لیکن خوشی نہیں
کلام: بہزاد لکھنوی
مسرور بھی ہوں خوش بھی ہوں لیکن خوشی نہیںتیرے بغیر زیست تو ہے زندگی نہیں
میں درد عاشقی کو سمجھتا ہوں جان و روحکمبخت وہ بھی دل میں کبھی ہے کبھی نہیں
یہ کفر بڑھتے بڑھتے ایمان ہو نہ جائے بہزاد لکھنوی
مہمان شاعر: بہزاد لکھنوی
مسرور بھی ہوں خوش بھی ہوں لیکن خوشی نہیںتیرے بغیر زیست تو ہے زندگی نہیں
میں درد عاشقی کو سمجھتا ہوں جان و روحکمبخت وہ بھی دل میں کبھی ہے کبھی نہیں