بہانہ ڈھونڈتے رہتے ہیں کوئی رونے کا
کلام: جاوید اختر
بہانہ ڈھونڈتے رہتے ہیں کوئی رونے کاہمیں یہ شوق ہے کیا آستیں بھگونے کا
اگر پلک پہ ہے موتی تو یہ نہیں کافیہنر بھی چاہئے الفاظ میں پرونے کا
مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی جاوید اختر
مہمان شاعر: جاوید اختر
بہانہ ڈھونڈتے رہتے ہیں کوئی رونے کاہمیں یہ شوق ہے کیا آستیں بھگونے کا
اگر پلک پہ ہے موتی تو یہ نہیں کافیہنر بھی چاہئے الفاظ میں پرونے کا
خواب کے گاؤں میں پلے ہیں ہمپانی چھلنی میں لے چلے ہیں ہم
چھاچھ پھونکیں کہ اپنے بچپن میںدودھ سے کس طرح جلے ہیں ہم