ٹوٹنے پر کوئی آئے تو پھر ایسا ٹوٹے
کلام: جواد شیخ
ٹوٹنے پر کوئی آئے تو پھر ایسا ٹوٹےکہ جسے دیکھ کے ہر دیکھنے والا ٹوٹے
تو اسے کس کے بھروسے پہ نہیں کات رہی؟؟چرخ کو دیکھنے والی!! ترا چرخہ ٹوٹے
جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ
مہمان شاعر: جواد شیخ
ٹوٹنے پر کوئی آئے تو پھر ایسا ٹوٹےکہ جسے دیکھ کے ہر دیکھنے والا ٹوٹے
تو اسے کس کے بھروسے پہ نہیں کات رہی؟؟چرخ کو دیکھنے والی!! ترا چرخہ ٹوٹے
درگزر جتنا کیا ہے وہی کافی ہے مجھےاب تجھے قتل بھی کر دوں تو معافی ہے مجھے
مسئلہ ایسے کوئی حل تو نہ ہوگا شایدشعر کہنا ہی مرے غم کی تلافی ہے مجھے