آدرش کی آواز میں
وہ نہ آئیں تو ہوا بھی نہیں آیا کرتی
کلام: مظفر وارثی · محفل: شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی) · 2025-12-18
«وہ نہ آئیں تو ہوا بھی نہیں آیا کرتی» مظفر وارثی کا کلام ہے، جسے آدرش نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)» میں 18 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔
وہ نہ آئیں تو ہوا بھی نہیں آیا کرتیاُس کی خوشبُو بھی اکیلی نہیں آیا کرتی
ہم تو آنسو ہیں خاک میں مِل جانا ہےمیتّوں کیلئے ڈولی نہیں آیا کرتی