7 اشعار

وہ نہ آئیں تو ہوا بھی نہیں آیا کرتی

Woh na aayen to hawa bhi nahin aaya karti

وہ نہ آئیں تو ہوا بھی نہیں آیا کرتی

«وہ نہ آئیں تو ہوا بھی نہیں آیا کرتی» مظفر وارثی کا کلام ہے، جسے آدرش نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)» میں 18 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

وہ نہ آئیں تو ہوا بھی نہیں آیا کرتیاُس کی خوشبُو بھی اکیلی نہیں آیا کرتی

ہم تو آنسو ہیں خاک میں مِل جانا ہےمیتّوں کیلئے ڈولی نہیں آیا کرتی

بستر ہجر پہ سویا نہیں جاتا اکثرنیند آتی تو ہے گہری نہیں آیا کرتی

الل اعلان کِیا کرتا ہوں سچی باتیںچور دروازے سے آندھی نہیں آیا کرتی

صرف رنگوں سے کبھی رس نہیں ٹپکا کرتاکاغذی پُھول پہ تتِلی نہیں آیا کرتی

عشق کرتے ہو تو آلودہء شکوہ کیوں ہو ؟شہد کے لہجے میں تلخی نہیں آیا کرتی

موت نے یاد کیا ہے کہ مظفر اُس نےاپنی مرضی سے تو ہچکی نہیں آیا کرتی

— مظفر وارثی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں