گاؤں بھی مہکتا تھا عطرتی ہواؤں سے
کلام: راکب مختار
گاؤں بھی مہکتا تھا عطرتی ہواؤں سےصبح جب نکلتے تھے پھول خواب گاہوں سے
خوں بہا عزیزوں کا آفتاب سے لوں گادھوپ کھا گئی میرے لوگ ٹھنڈی چھاؤں سے
حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار
مہمان شاعر: راکب مختار
گاؤں بھی مہکتا تھا عطرتی ہواؤں سےصبح جب نکلتے تھے پھول خواب گاہوں سے
خوں بہا عزیزوں کا آفتاب سے لوں گادھوپ کھا گئی میرے لوگ ٹھنڈی چھاؤں سے