وہ نہ آئیں تو ہوا بھی نہیں آیا کرتی
کلام: مظفر وارثی
وہ نہ آئیں تو ہوا بھی نہیں آیا کرتیاُس کی خوشبُو بھی اکیلی نہیں آیا کرتی
ہم تو آنسو ہیں خاک میں مِل جانا ہےمیتّوں کیلئے ڈولی نہیں آیا کرتی
شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)
مہمان شاعر: مظفر وارثی
وہ نہ آئیں تو ہوا بھی نہیں آیا کرتیاُس کی خوشبُو بھی اکیلی نہیں آیا کرتی
ہم تو آنسو ہیں خاک میں مِل جانا ہےمیتّوں کیلئے ڈولی نہیں آیا کرتی
میری تصویر میں رنگ اور کسی کا تو نہیںگھیر لیں مجھ کو سب آنکھیں، میں تماشا تو نہیں
زندگی تجھ سے ہر اک سانس پہ سمجھوتا کروںشوق جینے کا ہے مجھ کو، مگر اتنا تو نہیں