اے چاند یہاں نہ نکلا کر
کلام: حبیب جالب
بے نام سے سپنے دکھلا کراے دل ہر جا نہ پھسلا کر
یہ دیس ہے اندھے لوگوں کااے چاند یہاں نہ نکلا کر
دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب)
مہمان شاعر: حبیب جالب
بے نام سے سپنے دکھلا کراے دل ہر جا نہ پھسلا کر
یہ دیس ہے اندھے لوگوں کااے چاند یہاں نہ نکلا کر
یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہملیکن یہ کیا کہ شہر ترا چھوڑ جائیں ہم
مدت ہوئی ہے کوئے بتاں کی طرف گئےآوارگی سے دل کو کہاں تک بچائیں ہم