5 اشعار

یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم

Yeh aur baat teri gali mein na aayen hum

یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم

«یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے رابعہ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب)» میں 26 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہملیکن یہ کیا کہ شہر ترا چھوڑ جائیں ہم

مدت ہوئی ہے کوئے بتاں کی طرف گئےآوارگی سے دل کو کہاں تک بچائیں ہم

شاید بہ قید زیست یہ ساعت نہ آ سکےتم داستان شوق سنو اور سنائیں ہم

بے نور ہو چکی ہے بہت شہر کی فضاتاریک راستوں میں کہیں کھو نہ جائیں ہم

اس کے بغیر آج بہت جی اداس ہےجالبؔ چلو کہیں سے اسے ڈھونڈ لائیں ہم

— حبیب جالب

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں