ریبل کی آواز میں
حیا سے سر جھکا لینا ادا سے مسکرا دینا
کلام: اکبر اللہ آبادی · محفل: ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی) · 2025-12-04
«حیا سے سر جھکا لینا ادا سے مسکرا دینا» اکبر اللہ آبادی کا کلام ہے، جسے ریبل نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی)» میں 4 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 33 سیکنڈ ہے۔
حیا سے سر جھکا لینا ادا سے مسکرا دیناحسینوں کو بھی کتنا سہل ہے بجلی گرا دینا
یہ طرز احسان کرنے کا تمہیں کو زیب دیتا ہےمرض میں مبتلا کر کے مریضوں کو دوا دینا