آنے والے حادثوں کے خوف سے سہمے ہوئے
کلام: آزاد گلاٹی
آنے والے حادثوں کے خوف سے سہمے ہوئےلوگ پھرتے ہیں کہ جیسے خواب ہوں ٹوٹے ہوئے
صبح دیکھا تو نہ تھا کچھ پاس الجھن کے سوارات ہم بیٹھے رہے کس سوچ میں ڈوبے ہوئے
آج ان آنکھوں میں دیکھا تو ملا دشت خلا آزاد گلاٹی
مہمان شاعر: آزاد گلاٹی
آنے والے حادثوں کے خوف سے سہمے ہوئےلوگ پھرتے ہیں کہ جیسے خواب ہوں ٹوٹے ہوئے
صبح دیکھا تو نہ تھا کچھ پاس الجھن کے سوارات ہم بیٹھے رہے کس سوچ میں ڈوبے ہوئے