4 اشعار

حیا سے سر جھکا لینا ادا سے مسکرا دینا

Haya se sar jhuka lena ada se muskura dena

حیا سے سر جھکا لینا ادا سے مسکرا دینا

«حیا سے سر جھکا لینا ادا سے مسکرا دینا» اکبر اللہ آبادی کا کلام ہے، جسے ریبل نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی)» میں 4 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 33 سیکنڈ ہے۔

حیا سے سر جھکا لینا ادا سے مسکرا دیناحسینوں کو بھی کتنا سہل ہے بجلی گرا دینا

یہ طرز احسان کرنے کا تمہیں کو زیب دیتا ہےمرض میں مبتلا کر کے مریضوں کو دوا دینا

بلائیں لیتے ہیں ان کی ہم ان پر جان دیتے ہیںیہ سودا دید کے قابل ہے کیا لینا ہے کیا دینا

خدا کی یاد میں محویت دل بادشاہی ہےمگر آساں نہیں ہے ساری دنیا کو بھلا دینا

— اکبر اللہ آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں