سایا کوئی میں اپنے ہی پیکر سے نکالوں
کلام: مظفر وارثی
سایا کوئی میں اپنے ہی پیکر سے نکالوںتنہائی بتا کیسے تجھے گھر سے نکالوں
اک موج بھی مل جائے اگر مجھ کو صلے میںگرتے ہوئے دریا کو سمندر سے نکالوں
شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)
مہمان شاعر: مظفر وارثی
سایا کوئی میں اپنے ہی پیکر سے نکالوںتنہائی بتا کیسے تجھے گھر سے نکالوں
اک موج بھی مل جائے اگر مجھ کو صلے میںگرتے ہوئے دریا کو سمندر سے نکالوں
مُفلسِ زندگی اب نہ سمجھے کوئیمجھ کو عشقِ نبی اِس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں میرا عکسِ درُوںایک پتھر کو آئینہ گر مل گیا