مرزا جواد کی آواز میں
یہ سیلِ گریہ غبارِ عصیاں کو دھو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی
کلام: سلیم کوثر · محفل: میں خودبھی تیرےاندھیروں پہ مُنکشف نہ ہوا(سلیم کوثر) · 2025-11-24
«یہ سیلِ گریہ غبارِ عصیاں کو دھو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی» سلیم کوثر کا کلام ہے، جسے مرزا جواد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «میں خودبھی تیرےاندھیروں پہ مُنکشف نہ ہوا(سلیم کوثر)» میں 24 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔
یہ سیلِ گریہ غبارِ عصیاں کو دھو بھی سکتا ہے اور نہیں بھیکوئی کہیں چھپ کے رونا چاہے تو رو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی
یہاں بکھرنے کا غم، سمٹنے کی لذّتیں منکشف ہیں جس پروہ ایک دھاگے میں سارے موتی پرو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی