یہ سیلِ گریہ غبارِ عصیاں کو دھو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی
کلام: سلیم کوثر
یہ سیلِ گریہ غبارِ عصیاں کو دھو بھی سکتا ہے اور نہیں بھیکوئی کہیں چھپ کے رونا چاہے تو رو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی
یہاں بکھرنے کا غم، سمٹنے کی لذّتیں منکشف ہیں جس پروہ ایک دھاگے میں سارے موتی پرو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی