سومنات
کلام: کیفی اعظمی
بت شکن کوئی کہیں سے بھی نہ آنے پائےہم نے کچھ بت ابھی سینے میں سجا رکھے ہیں
اپنی یادوں میں بسا رکھے ہیںدل پہ یہ سوچ کے پتھراؤ کرو دیوانو
کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی
مہمان شاعر: کیفی اعظمی
بت شکن کوئی کہیں سے بھی نہ آنے پائےہم نے کچھ بت ابھی سینے میں سجا رکھے ہیں
اپنی یادوں میں بسا رکھے ہیںدل پہ یہ سوچ کے پتھراؤ کرو دیوانو
سنا کرو مری جاں ان سے ان سے افسانےسب اجنبی ہیں یہاں کون کس کو پہچانے
یہاں سے جلد گزر جاؤ قافلے والوہیں میری پیاس کے پھونکے ہوئے یہ ویرانے