دم صبح آندھیوں نے جنہیں رکھ دیا مسل کے
کلام: باصر سلطان کاظمی
دم صبح آندھیوں نے جنہیں رکھ دیا مسل کےوہی ننھے ننھے پودے تھے گھنے درخت کل کے
نئے ساتھیوں کی دھن میں تری دوستی کو چھوڑاکوئی تجھ سا بھی نہ پایا ترے شہر سے نکل کے
گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی (باصر سلطان کاظمی)
مہمان شاعر: باصر سلطان کاظمی
دم صبح آندھیوں نے جنہیں رکھ دیا مسل کےوہی ننھے ننھے پودے تھے گھنے درخت کل کے
نئے ساتھیوں کی دھن میں تری دوستی کو چھوڑاکوئی تجھ سا بھی نہ پایا ترے شہر سے نکل کے
کیسی محفل میں اے دل تجھ کو لایا ہوں دیکھ ذرامیں نے تیرے عیش کرائے اب تو میرے عیش کرا
لگتا ہے یہ ناصح بھی ہے جن کی طرح کی کوئی چیزیک دم آ دھمکے گا کہیں سے جوں ہی میں نے جام بھرا