7 اشعار

یہ سیلِ گریہ غبارِ عصیاں کو دھو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی

Yeh Sail-e-Girya Ghubar-e-Isyaan Ko Dho Bhi Sakta Hai Aur Nahin Bhi

یہ سیلِ گریہ غبارِ عصیاں کو دھو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی

«یہ سیلِ گریہ غبارِ عصیاں کو دھو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی» سلیم کوثر کا کلام ہے، جسے مرزا جواد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «‏⁧‫میں خودبھی تیرےاندھیروں پہ مُنکشف نہ ہوا(سلیم کوثر)» میں 24 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

یہ سیلِ گریہ غبارِ عصیاں کو دھو بھی سکتا ہے اور نہیں بھیکوئی کہیں چھپ کے رونا چاہے تو رو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی

یہاں بکھرنے کا غم، سمٹنے کی لذّتیں منکشف ہیں جس پروہ ایک دھاگے میں سارے موتی پرو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی

جسے ہواؤں کی سرکشی نے بچا لیا دھوپ کی نظر سےوہ ابرِ آوارہ، دامنِ دل بھگو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی

یہ میں ہوں، تم ہو، وہ ایلچی ہے، غلام ہیں اور وہ راستہ ہےاب اس کہانی کا کوئی انجام ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی

ترے لیے عشق جاگتا ہے، ترے لیے حسن جاگتا ہےسو اب تُو چاہے تو اپنی مرضی سے سو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی

یہاں ارادے کو جبر پر اختیار حاصل رہا تو اتناکوئی کسی کا، جو ہونا چاہے، تو ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی

نئی مسافت کے رتجگوں کا خمار کیسا چڑھا ہوا ہےسلیم کوثر! یہ نشّہ تم کو ڈبو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی

— سلیم کوثر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں