مقرر

مرزا جواد

@ThePreCambrian

22
پیش کردہ کلام
40
محفلوں میں شرکت
مرزا جواد کی آواز میں

یہ سمندر ہے کنارے ہی کنارے جاؤ

کلام: کلیم عاجز · محفل: شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز) · 2025-11-25

«یہ سمندر ہے کنارے ہی کنارے جاؤ» کلیم عاجز کا کلام ہے، جسے مرزا جواد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)» میں 25 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

یہ سمندر ہے کنارے ہی کنارے جاؤعشق ہر شخص کے بس کا نہیں پیارے جاؤ

یوں تو مقتل میں تماشائی بہت آتے ہیںآؤ اس وقت کہ جس وقت پکارے جاؤ

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 سومنات Somnath کیفی اعظمی آواز میں دستیاب
  2. 02 سنا کرو مری جاں ان سے ان سے افسانے Suna karo meri jaan un se un se afsane کیفی اعظمی آواز میں دستیاب
  3. 03 جب اس کی زلف میں پہلا سفید بال آیا Jab us ki zulf mein pehla safed baal aaya شہزاد احمد آواز میں دستیاب
  4. 04 دم صبح آندھیوں نے جنہیں رکھ دیا مسل کے Dam-e-subh aandhiyon ne jinhein rakh diya masal ke باصر سلطان کاظمی آواز میں دستیاب
  5. 05 کیسی محفل میں اے دل تجھ کو لایا ہوں دیکھ ذرا Kaisi mehfil mein aye dil tujh ko laya hoon dekh zara باصر سلطان کاظمی آواز میں دستیاب
  6. 06 تہمت چند اپنے ذمے دھر چلے Tohmat chand apne zimme dhar chale خواجہ میر درد آواز میں دستیاب
  7. 07 بنام وطن Banam Watan مصطفی زیدی آواز میں دستیاب
  8. 08 درد دل بھی غم دوراں کے برابر سے اٹھا Dard dil bhi gham-e-dauran ke barabar se utha مصطفی زیدی آواز میں دستیاب